Advertisement

BONZER NOVELIANS : Karna Tu Meri Hifazat By Tahreem Fatima COMPLETE pdf



Karna Tu Meri Hifazat 💕💕

By - Tahreem Fatima


Tahreem Fatima is a new social writer.. Her writing style is very adorable and wonderful..

Read and enjoy The Novel




💕 Sneak Peak 💕







"کھانا اچھا بنالیتی ہو۔۔۔۔۔۔۔اب میں روزانہ گھر آ کے ہی کھاونگا۔۔۔۔"
وہ سامنے رکھی ہوئی پلیٹ میں سے نوالے بناتا کھاتے ہوئے آرام سے بولا تھا۔۔۔
وہ چپ چاپ کھا کم رہی دیکھ اسے زیادہ رہی تھی۔۔۔براون کرتا شلوار میں آرام دہ حالت میں وہ اسکے سامنے تھا۔۔معمول سے ہٹ کے اسکے ماتھے پہ بال بکھرے تھے جبکہ اسکے چہرے کے زاویے کافی حدتک خوشگوار تھے ورنہ آفس سے آنے کے بعد تو وہ کھانے کو ڈوڑتا تھا۔۔۔

"ویسے تم لڑکیاں کھانا جیسے تیسے اچھا بناہی لیتی ہو !! " وہ پھر بولنے سے باز نا آیا تھا۔۔۔

"ک۔۔کیا آپ کی کوئی گرل فرینڈ تھی کبھی" وہ آنکھیں میچ کے ضبط کرتی ہوئی بولی تھی۔۔پچھلے دنوں کی شدید زہنی ٹینشن نے اسے بیمار کر ڈالا تھا ۔۔ابھی بھی وہ ناجانے کیا پوچھ گئی تھی۔۔۔
ضامن کا ہاتھ اسکی بات پہ رکا اور اسنے ٹھٹک کے اپنی بیوی کو دیکھا تھا۔۔بلیو جینز پ بے بی پنک کلر کی ٹی شرٹ پہنے جس کے دامن پہ اور گلے پہ لیس لگی تھی ڈوپٹے سے ندارد دراز بال کچھ آگے اور کچھ کمر پہ پھیلاِے بالوں میں وائٹ ہیر بینڈ لگائے وہ اسے بہت معصوم لگی تھی۔۔۔

"کیا تمہیں لگتا ہے کہ میری گرل فرینڈ ہوگی یا تھی" وہ اسکی بند ہوئی آنکھوں پہ ہاتھ لے کر نرمی سے چھوتے ہوئے بولا تھا کہ حیام کی آنکھیں اسکے ہاتھ کے لمس سے کھل گئیں تھیں۔۔۔وہ اسے اب پہلے سے قریب لگا تھا ۔۔اسکی فریگنینس حیام کو اپنے چہرے پہ چھاتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔۔چہرے کا رنگ شرٹ کے ہم رنگ گلابی ہوا تھا۔۔۔

"ہ۔۔۔ہاں" اتنے دنوں سے پلتی پریشانی اسنے آج بول دی تھی۔۔۔ویسے بھی ایسے بندے کی گرل فرینڈ نا ہو ایسے کیسے ہوسکتا ہے۔۔سوا چھ سے نکلتا قد، غضب کی اسمارٹنیس، ورزشی جسم، خوبصورت نقوش، گوری رنگت، اور اپنی سخت جاب کی طرح چہرے کے تاثرات بھی سخت۔۔۔۔ہاں وہ پگھل رہی تھی۔۔۔

"جی نہیں۔۔۔میرا ڈیپارٹمنٹ ہی ایسا ہے کہ کبھی فرصت ہی نہیں ملی کہ شادی کے بارے میں سوچا جاِے یا گرل فرینڈ کے ساتھ ڈیٹس کی جائیں۔۔۔"

وہ مسکرایا تھا۔۔۔
ابھی حیام کو اطمینان بھی نا ہوا تھا کہ وہ دوبارہ شروع ہوا تھا ۔۔

"لیکن میں دو شادیاں تو کر ہی سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔آخر پوری جوانی صبر کیا ہے۔۔اتنا تو پھل ملنا چاہیے نا ویسے بھی اگر تم سے شادی نا ہوتی تو ایک ہی کافی ہوتی "

حیام کی سماعت میں دھماکہ کیا گیا تھا۔۔۔۔

"ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔" وہ ایکدم بولی تھی۔۔۔اسکو بانٹنا اسکے لیے سوہان روح ہی تھا۔۔۔

"کیا تم مجھے منع کررہی ہو" ضامن کا انداز استہزایہ تھا جیسے وہ اسکا مزاق اڑارہا ہو۔۔۔

"ہاں۔۔۔۔۔" حیام کی پل میں آنکھیں نم ہونے لگی تھیں۔۔

"شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔تم اپنی لمٹس میں رہو۔۔۔اور اٹھو یہاں سے۔۔۔۔" وہ ایکدم آنکھیں نکال کے غرایا تھا اسکی نازک کلائی پکڑ کے غصے سے بولا تھا۔۔۔دوسرے ہی لمحے اسنے اسکی کلاِئی چھوڑی تھی اور اشارہ کرتے ہوئے بولا۔تھا۔۔

"دفعہ ہوجاو۔۔۔۔!"

💘



  ⬇Mediafire link







Post a Comment

0 Comments